پاکستانی روپے کو زوال کیوں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار شوکت اشفاق ورک اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصا عالمی بینک کی کسی بھی ملک کے اقتصادی معاملات پر گہری نظر ہوتی ہے جو اس ملک کے اندرونی اعداد و شمار یا ڈیٹا بیس پر انحصار کرتی ہے جس کاجائزہ لے کر نتائج اخذ کئے جاتے ہیں اس کی روشنی میں

 

 

 

 

 

کسی ملک کے اقتصادی معاملات کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔عالمی بگ فور میں شامل مورگن سٹینلے کیپٹلز نے پاکستانی مارکیٹ کی ریٹنگ کم دی اور آنے والے دسمبر کے بعد اسے سرمایہ کاری کیلئے غیر محفوظ مارکیٹ قرارد ے دیا،جس کے بعد عالمی بینک نے وارننگ جاری کردی دسمبر کے بعد بجٹ خسارہ اڑھائی کھرب روپے سے بڑھ جائے گا۔اس کے بعد یقینا افراطِ زر 14فیصد کی خطرناک سطح پر پہنچ جائے گی۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ایسی صورت میں مہنگائی کا کیا عالم ہوگا،بے روزگاری کی شرح کتنی ہوگی اور ایسی صورت میں جب ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ مارکیٹ سے نکالے گا تو ڈالر سمیت غیر ملکی کرنسیوں کا ریٹ بڑھے گا روپے کی قدر مزید کم ہو گی۔افواہیں جنم لیں گی کہ ملک خدانخواستہ دیوالیہ پن کی طرف جا رہا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ رہی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ان تین سالوں میں بے تحاشا ملکی اور غیر ملکی قرضے لئے اور جن شرائط پر لئے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور پھر ا ن قرضوں کو غیر ترقیاتی کاموں میں لگایا جاتا رہا جس سے مجموعی طور پر قرضے معاشی حجم کے 82فیصد سے بھی بڑھ گئے۔محض چند سال پہلے یہی پاکستانی مارکیٹ سرمایہ کاروں کیلئے بہترین تھی اور عالمی مالیاتی ادارے ملکی معاشی شرح نمو کو ایشیا کی تیز ترین معیشت قرار دے رہے تھے،اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوگیا ہے کہ ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلا گیا روپیہ روز بروز اپنی وقعت کھو رہا ہے اور ایسا صرف پاکستان کے ساتھ کیوں ہے؟ اس پورے ریجن کی کرنسی نہ صرف مستحکم ہے بلکہ کرونا کے باوجود بہتر ہے مگر یہاں غربت کی نچلی لکیر بھی کراس کرچکی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *