پٹرول نے سب کا تیل نکال دیا، مزید کتنا مہنگاہو گیا۔۔ نئی تاریخ رقم ،آج کی سب سے بڑی خبر

عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی مانگ اور سپلائی میں کمی کے باعث قیمتیں 7سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، ادھر ایل این جی کے سب سے بڑے ایکسپورٹر قطر نے بھی گیس کی بلند ترین قیمتوں پر ناخوشگواری کا اظہار کیاہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کےمطابق عالمی مارکیٹ میں گزشتہ روز برینٹ تیل کی قیمت1.9فیصد اضافے کیساتھ 83.96 ڈالرز

 

 

 

 

 

فی بیرل ہوگئی جو کہ سات سال کی بلند ترین سطح ہے اس سے قبل اکتوبر 2014میں برینٹ کی عالمی مارکیٹ میں فی بیرل قیمت 92.78ڈالرز ریکارڈ کی گئی تھی،جس کےبعد دسمبر 2014میں 62.06 ڈالرز فی بیرل تک گر گئی تھی اس کے بعد سے اب تک قیمتیں 81ڈالرز تک نہیں پہنچی تھیں، تاہم 3سال قبل جون 2018میں بھی برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت 80.53ڈالرز رہی تھی۔گزشتہ روز امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی فی بیرل قیمت بھی 2فیصد اضافے کیساتھ 81.14ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی۔اوپیک اور تیل کے دیگر بڑے پیداواری ممالک کی جانب سے پیداوار میں اضافہ نہ کرنے کے حالیہ فیصلے نے عالمی سپلائی کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔تجزیہ کار کریگ ارلام کاکہناہےکہ عالمی منڈی میں جس کے اعصاب اب بھی واضح ہیں،آئندہ مہینوں میں توانائی کا بحران ایک بڑی تشویش ہے۔انہوں نے کہاکہ کیا اس سال کے آخر میں تیل کو3ہندسوں میں دیکھ کر حیرت ہوگی؟ شاید نہیں۔گزشتہ ہفتے قدرتی گیس کی ریکارڈ قیمتوں کے باعث تیل کی قیمتوںمیں بھی اضافہ ہوا تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حالیہ تبصروں کے بعدان میں نرمی آئی ۔ موسم سرما سے قبل گیس کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا،جس

 

 

 

 

 

نے کچھ صارفین کو گیس سے خام تیل کی طرف آنے پر آمادہ کیا۔ ایک اور تجزیہ کار بجارنے شیل ڈروپ نے کہاکہ قدرتی گیس کی انتہائی زیادہ(مہنگی) قیمتیں قدرتی گیس کی جگہ تیل کی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کرسکتی ہیں لیکن ہم نے اس سے پہلے کبھی اس طرحکی صورتحال کا تجربہ نہیں کیا جس میں قدرتی گیس کی قیمتیں تیل کی قیمت سے دوگنی ہوں۔دوسری جانب قطری وزیر توانائی سعد القابی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئےکہاکہ میں موجودہ عالمی قیمتوں سے مطمئن نہیں جو کہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، انہوں نے کہاکہ انتہائی زیادہ قیمتیں صارفین کے لیے منفی رجحان رکھتی ہیں اور گاہکوں کا مطمئن ہونا میرے لیے سب سے اہم چیز ہے،اگر گاہک ناخوش ہے تو وہ خریداری نہیں کریگا۔قابی نے کہا کہ قطر کی زیادہ سے زیادہ سالانہ پیداوار 77 ملین ٹن ہے،ہم نے کبھی بھی اس سےکم پیداوار نہیں کی او ر نہ ہی ہم اس سے اوپر آئے ہیں،ہم مستقل مزاجی کیساتھ پیداوار کررہے اور ہم جو کچھ کر سکتے ہیں پیدا کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساںادارے کےمطابق یورپی اور برطانیہ کی گیس کی قیمتیں گذشتہ ہفتے بڑھ کرآسمان کو چھو گئی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *